عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت

میلاد کیا ہے؟ میلاد کیوں منایا جاتا ہے؟ میلاد منانا چاہیے یا نہیں؟ یہ ہیں وہ سوالات جو عید میلاد النبی کے موقع پر سادہ لوح مسلمانوں کے ذہنوں میں پیدا کر دیے جاتے ہیں اور وہ جو اپنے نبی کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں پریشان ہو جاتے ہیں اور کشمکش کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آیے ان تمام سوالات کا قرآن، حدیث اور سنت کی روشنی میں بغور جایزہ لیتے ہیں اور ذہنون میں پیدا ہونے والے خدشات کا سدباب کرتے ہیں۔

میلاد کے معنی ہیں ولادت، پیدائیش کے تذکرے کرنا۔ اس لحاظ سے عید میلاد النبی کا مطلب ہے آپ کی پیدائیش کے واقعات بیان کرنا، شیر خوارگی کے حالات کا بیان، آپ کے نسب کا بیان۔ آپ کی ولادت کے واقعات کا بیان جیسے بھی کریں گے وہ میلاد شریف ہوگا۔

میلاد شریف منانا اور اس موقع پر خوشی کا اظہار جس بھی جائز طریقے سے ہو وہ مستحب ہے ، برکتوں اور رحمتوں کے نزول کا سبب ہے۔ قرآن میں ہےحضرت عیسی علیہ السلام نے دعا کی

اے ھمارے رب ہم پر نازل فرما ایک دستر خوان کھانے سے سجا ہوا آسمان سے

کہ اس سے ہمارے پہلوں کے لیے اور ہمارے پچھلوں کے لیے عید ہو۔

 

اللہ تعالی نے دعا قبول فرمائ آسمان سے مائدہ اترا انہوں نے خوشی منائ، وہ دن اتوار کا دن تھا۔ عیسائ آج بھی اس دن خوشی مناتے ہیں کہ اس دن دستر خوان اترا تھا۔ حضور سرور دو عالم کی اس دنیا میں تشریف آوری تو اس مائدہ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ قرآن میں ہے

اور یاد کرو اللہ تعالی کی نعمت اپنے اوپر

اللہ تعالی سورتہ والضحی میں فرماتے ہیں

اور اپنے رب کی نعمتوں کا چرچا کرو

یعنی اللہ تعالی کی نعمتوں کو یاد کرنااور ان کا چرچا کرنا اللہ کے حکم کی بجا آوری ہے۔ حضور کی اس دنیا میں آمد اللہ تعالی کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ میلاد شریف کی محفل سجا کر ہم اللہ تعالی کی اس نعمت کی آمد کی یاد تازہ کرتے ہیں اور اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔

قرآن پاک میں ہے

اے ایمان والو تمہارے پاس عظمت والے رسول تشریف لائے

یہ بھی میلاد شریف ہے کہ آپ کی ولادت کا ذکر ہے۔ پھر قرآن میں فرمایا

وہ تم میں سے، تمہاری بہترین جماعت میں سے ہیں

اس آیت میں حضور کے نسب کو بیان فرمایا۔ پھر فرمایا “حریص علیکم” گویا اللہ تعالی نے آپ کی نعمت بیان فرمائ۔ کہیں اللہ نے فرمایا کہ اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان کیا کہ ان میں اپنے رسول کو بھیج دیا۔ کہیں اللہ نے فرمایا کہ وھی ذات پاک ہے رب تعالی کی جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں حضرت آدم علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام، حضرت اسحاق علیہ السلام، حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت موسی علیہ السلام، حضرت عیسی علیہ السلام کا میلا د منایا ہے۔

سورتہ مریم میں اللہ تعالی نے حضرت مریم کا حاملہ ہونا، ان کی تکلیف کا ذکر، پھر آپ نے اس وقت کیا غذا کھائ، حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت اور ان کا اپنی قوم سے کلام غرض کہ سب ہی بیان فرمایا۔ اسی طرح قرآن نے حضرت موسی علیہ السلام کی پیدائیش، ان کی شیرخوارگی، ان کی پرورش، ان کا چلنا پھرنا، مدین جانا۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت کرنا، ان کا نکاح، ان کو نبوت کا ملنا سب کچھ بیان فرمایا۔ قرآن میں اللہ سبحان و تعالی فرماتے ہیں

کہہ دو اے نبی اللہ کے فضل و رحمت پر خوب خوشیاں منایا کرو

اللہ کے فضل اور رحمت ہونے پر خوشی منانا حکم الہی ہے۔ حضور اللہ تعالی کی طرف سے رحمت بھی ہیں اور فضل عظیم بھی لہذا آپ کی ولادت پاک پر خوشیاں منانا اس آیت پر عمل کرنا ہے۔

میلاد کی محفلوں میں کیا ہوتا ہے؟ آپ کی ولادت کا بیان ہوتا ہے۔ آپ کی ولادت کے موقع پر جو معجزات دیکھنے میں آئے ان کا ذکر خیر ہوتا ہے۔ آپ کی ولادت کے موقع پر حضرت آمنہ کی کیفیات کا بیان ہوتا ہے۔ آپ کی شیر خوارگی کے واقعات کا تذکرہ ہوتا ہے۔ آپ کے بچپن کے واقعات کا ذکر ہوتا ہے۔ آپ کی ولادت کے موقع پر محفل میلاد منعقد کرکے اللہ کی طرف سے آپ کی صورت میں فضل اور رحمت پر خوشی منائ جاتی ہے۔ یہ سب قرآن کا طریقہ ہے، یہ اللہ تعالی کی سنت ہے اور اس کا حکم ہے۔ ولادت کی رات میں ملائکہ نے حضرت آمنہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر صلوۃ سلام عرض کیا- فرشتوں نے بھی میلاد منایا۔

تمام انبیاء علیہ السلام نے آپ کی آمد کی خبر اپنی اپنی امت کو دی آپ کے بارے میں بتایا۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ایسے رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لایئں گے ان کا نام احمد ہے۔ سبحان اللہ- ماں باپ بچوں کے نام ان کی پیدایئش کے بعد رکھتے ہیں مگر آپ کی ولادت باسعادت سے ۶۰۰ سال پہلے حضرت عیسی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ان کا نام احمد ہے، “ہو گا” نہ کہا، یعنی آپ کا نام اللہ تعالی نے رکھاہے، کب رکھا یہ تو اللہ ہی جانے۔ یہ بھی میلاد ہے۔ فرق اتنا ہے کہ تمام انبیاء علیہ السلام نے اپنی اپنی قوم کے اجتماع میں فرمایا کہ آپ تشریف لایئں گے اور ہم اپنے اپنے اجتماع میں کہتے ہیں کہ آپ تشریف لے آئے ہیں یعنی مستقبل اور ماضی کے الفاظ کا فرق ہے بات ایک ہی ذات باصفا کی ہے، ان کی آمد کی خوشخبری سنائ جا رہی ہے۔ ان کی ولادت باسعادت کا ذکر خیر ہے، آپ کا میلاد منایا جارھا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ میلاد مصطفے منانا انبیاء علیہ السلام کی سنت ہے-

مشکوۃ شریف کی حدیث مبارکہ ہے حضرت عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں ایک دن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ شاید حضورکو یہ خبر ملی تھی کہ بعض لوگ آپ کے نسب میں طعن کرتے ہیں۔ پس آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور صحابہ سے پوچھا کہ بتاوء کہ میں کون ہوں۔ سب نے عرض کی آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا میں محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب ہوں۔ اللہ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو ہم کو بہتر مخلوق میں سے کیا۔ پھر اس کے دو حصے کیئے۔ عرب اور عجم- ہم کو ان میں سے بہتر (یعنی عرب) میں سے کیا۔ پھر عرب کے چند قبیلے بنائے اور ہم کو ان میں سے بہتر (یعنی قریش) میں سے کیا۔ پھر قریش کے چند خاندان بنائے۔ ہم کو ان میں سے سب سے بہتر خاندان (یعنی بنو ہاشم) میں سے کیا۔ ہم خاتم النبیین ہیں۔ ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہیں، حضرت عیسی علیہ السلام کی بشارت ہیں اور اپنی والدہ ماجدہ کا وہ دیدار ہوں جو انہوں نے ولادت کے وقت دیکھا کہ ان سے ایک نور چمکا جس سے ملک شام کے تمام محل ان کو نظر آئے۔ اس محفل میں حضور نے اپنا نسب نامہ بیان فرمایا، اپنی ولادت کا ذکر کیا، یعنی اپنا میلاد منایا۔

صحابہ کرام ایک دوسرے کے پاس جاکر فرمائش کرتے تھے کہ ہم کو حضور کی نعت سناوء۔ حضرت عطار ابن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے حضور کی وہ نعت سناوء جو کہ توریت میں ہے۔ انہوں نے پڑھ کر سنائ۔

کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ میرے پسندیدہ بندے ہیں۔ نہ کج خلق ہیں، نہ سخت طبیعت ہیں۔

ان کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوگی اور ان کی ہجرت مدینہ طیبہ میں ہوگی، ان کا ملک شام ہوگا۔

ان کی امت خدا کی بڑی حمد کر ےگی۔ ہر دکھ، تکلیف اور خوشی کے موقع پر بھی خدا کی حمد کرے گی۔

 

ان تمام واقعات سے یہ بات بڑے وثوق سےکہی جا سکتی ہے کہ میلاد مصطفے منانا نہ صرف جائز ہے بلکہ اللہ تعالی کے حکم پر عمل کرنا ہے اور اس کی سنت کا اتباع ہے ۔ اللہ تعالی کے اس حکم اور اس کی اس سنت کو انبیاء علیہ صلوۃ والسلام نے اپنایا۔ آپ نے بھی اس سنت پر عمل کیا، آپ کے صحابہ نے بھی اس کی پیروی کی۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم بھی اپنے اللہ تعالی کے حکم اور اس کے محبوب بندوں کی سنت پر عمل کریں۔ میلاد کی محفلیں سجایئں، آپ کی ولادت کی خوشیاں منایئں، آپ کی نعت بیان کریں، درود و سلام کے تحفے آپ کی خدمت میں پیش کریں۔ سارا قرآن حضور کی نعت ہے، اس کا بیان سنیں اور سنایئں۔

حضور سے دو شنبہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ اس دن ہم پیدا ہوئے اور اس دن ہم پر وحی نازل ہونا شروع ہوئ تھی۔ اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ دو شنبہ پیر کا دن ہے، اس دن کا روزہ سنت ہے کہ حضور کی ولادت کا دن ہے۔ اس سے تین باتوں کا پتہ چلتا ہے، (۱) یادگار منانا سنت ہے (۲) یادگار منانے کے لیئے دن مقرر کرنا سنت ہے (۳) اور حضور کی ولادت کی خوشی میں عبادت کرنا بھی سنت ہے۔ عبادت چاہے بدنی ہو جیسا کہ روزہ رکھنا، نوافل پڑھنا یا مالی ہو جیسا کہ صدقہ و خیرات دینا، شرینی تقسیم کرنا۔

میلاد شریف کی محفلیں کرنا حضور کی تعظیم اور عزت ہے جبکہ اس میں کوئ خلاف شرع عمل نہ ہو۔ امام سیوطی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم پر حضور کی ولادت پر اظہار تشکر مستحب ہے۔ امام سخاوی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا مسلمان ہر شہر میں ہر جگہ ہمیشہ میلاد شریف مناتے رہتے ہیں۔ اس مجلس پاک کی برکتوں سے ان پر اللہ کا بڑا ہی فضل ہوتا ہے۔ امام جوزی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میلاد کی تاثیر یہ ہے کہ سال بھر اس جگہ اللہ اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل کرتا ہے اور امن رہتا ہے اور اس کی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔

 


 

Rabi ul Awal k mahine ki Fazilat 2

Irshad e Bari tala hy,

“Mai or mairy frishty nabi pak s.a.w. pr drood or slam bhaijty han .ay iman walo tum b un pa drood o slam bhaijo.”

Hazrat abu heraira.r.a sy rwayat hy,

“farmaya.Nabi pak s.a.w.ny k jo koi mujh pr aik bar drood bhaijy ga.Allah us pr das bar rehmt nazil farmay ga,das guna us k muaf frmay ga,or das darjay buland farmay ga.”

Hzrat abdullah bin masuod r.a. sy rwayat hy,

“farmaya nabi pak s.a.w. ny k Qiyamat k din mairy sab sy ziyada nazdek wo shakhs ho ga.jo mujh pr ziyada drood bhaijta hy.”

IS mahine mai…jb Rabi ul awal ka chand nazar ay.us rat sy sara mahina drood  pak prty rhain.khas kr isha ki nmaz k bad drood prhty huwy bawazu so jain.is amal sy inshallah usko Hzoor s.a.w. ki ziyarat khwab mai zroor ho g.

DROOD  PAK…1.Drood e ibraheem..jo nmaz mai prha jata hy.

اللھم صل علی محمد ن النبی الامی و ر حمتھ اللھ و بر کا تھ

الصلوتھ  وا سلا م  علیک  یا  رسو ل  اللہ

وعلی آلک و صحا بک  یا سید ی یا رسول اللہ

Jo koi Rabi ul awal k mahine mai is drood ko 100,000.sawa laakh bar parhy ga.usko ap s.a.w. ki ziyratho g.

Hazrat ibn e abas r.a.sy rwayat hy,

“farmaya Nabi pak s.a.w. ny, jis ny ye drood pak parha..to us k prhny ka swab 7o,000 frishton ko 1,000 dino tak mushaqat mai dalay ga,yani..frishty is drood prhny ka swab 1,000 din tk likhty likhty thak jain gy”

..subhanallah..Allah u Akbar..Drood pak ye hy..

جز ی اللہ عنا سید نا محمد بما ھو اھلھ

اے اللہ ھما ری طرف سے حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کو وہ جزا  عطا فر ما دے جس کے وہ اھل ھیں۔۔

Rabi ul Awal k Maheenay ki Fazilat

Rabi ul Awal ka mahina islami saal ka teesra mahina hai. Ye mahina khair o barkat or sa’adaton ka mahina hai kyun k is mahine ki 12 tarikh ko Allah Ta’ala ne apne fazl o karam se Rehmat ul lilalamin Hazrat Muhammad Mustafa (SAW) ko paida farma kar apni naimaton ki barish farmayi. Ap (SAW) ka is duniya mai tasreef lana hmare liye Allah Ta’ala ka bht bara ehsan hai. Irshad e bari Ta’ala hai k:

لقد من اللھ علی المو منین اذ بعث فیکم رسول۔

Allah ta’ala ne iman walon per ehsan kiya jb us ne apne mehboob ko rasool bna kar bheja.

Ap (SAW) ki zaat hmare liye Allah ki tarf se ek inam or ek ehsan hai or rehmat hi rehmat hain.

و ما ار سلنک ا لا ر حمت الا لمین ۔

Or Allah Ta’ala ne Ap (SAW) ko tmam jahanon k liye rehmat bna k bheja.

Ba’az ulma ikram ka khyal hai k ramzan ka mahina bari fazilat or azmat ka maheena hai q k is mahine mai hmen rozay ata famaye gye laila tul qadar ata farmayi gayi etqaf ki barkaten ata farmayi gayi, quran e pak ata farmaya gya, naikiyon k ajr o sawab mai azafa ata farmaya gya is lehaz se amzan ka mahina bari azmat or fazilat ka mahina hai lekin ba’az ulma ikram ka khayal hai k rabi ul awal ka maheena zyada fazilat o azmat ka mahina hai kyun k rabi ul awal ka mahina ek aisi khasiyat se saal bhar k tamam mahinon se zyada afzal or qabil e ehtram hai k Allah ta’ala ne is mahine mai apna mehboob ata farmaya. Ap (SAW) k ane se hmen ramzan ka mahina mila, ramzan ki barkaten mili, etiqaf mila,quran mila, iman mila, laila tul qadar mili, naikiyon k ajr o sawb mai izafa mila, rehnumai mili, goya k Khuda b mila to Ap (SAW) ki nisbat se mila. Ap (SAW) ki wiladat ek aisi naimat hai. Sari naimaten na milti agar hmen Ap (SAW) na milte. Allah Ta’ala ne jb quran ko nazil kiya to hmen ehsan nhi jatlaya, ramzan ka mahina ata farmaya to ehsan nhi jatlaya, laila tul qadr ka ehsan nhi jatlaya, suraj, chand, sitare, asman, zameen, hatta k insan hone ka ehsan b nhi jatlaya, sirf ye farmaya k aye logon agar tum meri naimaton ko gin’na chaho to gin nhi sako ge. Phir farmaya tum apne rab ki kon kon si naimaton ko jhutlao ge. kisi naimat pr ehsan nhi jatalaya balke Ap (SAW) ki amad per Ehsan jatlaya. Allah ta’ala ne irshad farmaya k jb Allah tumhe koi naimat de koi rehmat kare to khushi mnaya karo Ap(SAW) ki zaat hmre liye rehmat hi nhi balke rehmat ul lilalamin hai  is lehaz se ye mahina munfarid ho jata hai. Jb Allah ki naimat mile Khush hona chaiye, Allah ka shukar ada karna chaiye nashukri nhi karni chaiye…..

Safar k maheene ki fazilat

Islami saal ka doosra mheena safar hy.Ap s.a.w is mheeny k shuro hony pr afsurda ho jaty thy,or is mheeny k khatm hony pr musarrat ka izhar farmaty thy.Q k ye mheena nzooly bla ka hy.tmam saal mai 10,80,000 blain nazil hoti han,in mai sy 1,20,000 khass mahy safar mai nzool krti han.jo log is maah mai ibadat e ilahi mai apna waqt guzarain gy.un par in blaon ka asar nai ho ga or Allah pak un k gunahon ko moaf kr dy ga.

Mahy safar mai har roz har musalman ko chahiay k, bad nmaz e isha 4 rakat(nmaz nafil) is trha parhy k,pehli rakat mai bad sura e fatiha 15 bar sura kafiroon or dosri rakat mai bad sura e fatiha 15 bar sura ikhlaas,tesri rakat mai bad sura e fatiha k 15 bar sura falaq, chothi rakat mai bad sura e fatiha 15 bar sura naas parhy..slam phairny k bad100 bar drood pak or 1oo bar Astagfar parh kr Allah tala sy dua kary k Allah usy har afat or bla sy mahfooz rakhyor ajr e azeem ata farmay Ameen..

Muharram ul Haram ki Fazilat

Hazrat abdulah ibn e abas sy rwayat hy.k Jnab rsoolullah s a w jb mdena pak tshref  lay to Ap s a w ny yhoodiun ko daikha k wo aashorah k din roza rekhty han.Ap  s a w ny un logon sy roza rakhny ki waja puchi.un logon ny kaha.Ye  wo din hy,js mai Allah tala ny bni israeel ko un k dushman Firaun sy nijat dilai.lihaza Hazrat moosa a s is din roza rekhty thy.Ap saw ny frmaya k mai tum sy ziyada is chez ka haq dar hun k is din roza rakhun.is k bad Ap saw ny ashora ka roza rkha or logon ko b hukam diya or frmaya,Jb agla sal ay ga to hm inshalah 9 , 10 muharm k rozy rakhain gy.ta k 10 muharm ka aik roza rekhny sy yhudo nsarah ki mushabhat na ho.Ravi biyan farmaty han.k abi ainda sal any b na paya tha k Jnab rsoolullah s.a.w ka wisal ho giya.

Yaum e Ashura ki hmari tareekh mai bari ehmiat hai ye din hmare han to aam tor pr Hazrat Amam Hussain (RA) ki shahadat k hawale se dekh jata hai. yun mehsus hota hai k goya Saniha e karbala k bad hi se 10 muhrram ul haram tareekh mai amar ho gya hai. lekin jb hm islami treekh torat or ahadees e nabwiya ka mutalia karen to ye bat hm per bakhubi waziya ho jati hai k saniha e karbala k ilawa b ashura ki apni tareekh hai. Islam k ilawa yahudiyat mai b us din ka apna ek makhsus muqam hai. khuda ne zameen or asman ashura k din paida farmaye, Hazrat Adam or Hawwa ko isi din paida farmaya. Hazrat Yonus 40 din k bad machli k pait se isi din azad hue. Hazrat Musa ko firon jese zalim badshah se isi din nijat mili. Hazrat Eesa ko isi din asman per utha lia gya. Yaum e Ashura k baroz hi akhri Nabi Hazrat Muhammad (SAW) k nawase ko intahai be dardi se shaheed kr dia gya. Yaum se ashura ko hi nizam e kainat ko darham barham kar dia jaye ga. Kainat ki bisaat lapait di jaye gi or qayamat barpa ho gi.

Hazrat Shibli se manqool hai k Muharram ul Haram ka maheena shuru ho to 4 rakt nafal ada karen har rakt mai Alhamd shareef k bad 15 bar surah ikhlas parhen. or bad namaz k is ka sawab syed ush shuhda Hazrat Imam Hussain or tamam shuhda e karbala ko in naflon ka sawab paish karen. Ye amal awal Muharram se 10 muharram tak ye amal jari rakhen. rozana 4 rakt nafal parh kr Hazrat Imam Hussain or un k sathiyon ki roohon k hazoor swab paish karen. Is namaz k parhne wale ki Hazrat Imam Hussain din qyamat sifarish farmayen ge. Hazrat Shibli frmate hain k mai ye amal karta tha. awal muharram se 10 muharram tak roz parh kr Ap ki rooh ko bakhsha karta tha. ek din Hazrat Shibli ne khwab mai dekha k Hazrat Imam Hussain ne Shibli ki taraf se mu phair lia Shibli ne arz kia k Hazoor mjhse kya khata hui  farmaya khata nhi hmari ankhentumhare ehsan se shrminda hain. Jb tak k qayamat mai hm is ehsan ka badla na dilwyen ge us waqt tak hmari ankhen milane k qabil nhi (Subhan Allah)  itna bara ajr o sawab hai.

Qabar ki roshni k liye nafil:

Ashura ki rat 2 nafil qabar ki roshni k wasty parhe jate hain in ki tarkeeb ye hai k har rakt mai Alhamd shareef k bad 3 bar surah ikhlas parhen. Jo admi is rat ye namaz parhe ga to Allah Tabarak o Ta’ala qayamat tak us ki qabar roshan rakhe ga….

Allama Iqbal (Mufakkar e Islam)

  1. Musalmanon k liye jaye panah sirf Quran Pak hai.
  2. Quran Kareem ka sirf mutalia hi na kiya karo balke us ko smajhne ki koshish karo.
  3. Ilm ki justujoo jis rang mai b ki jaye ibadat ki ek shakal hai.
  4. Ek sochne wale zinda insan k khayalat mai tabdeeli hoti rehti hai. Nahi badalta to pathar nahi badalta.
  5. Musibat ek atia khudawandi hai, ta k insan puri zindagi ka mushahida kar len.
  6. Tareekh ek tarah ka zakheem gramofone hai  jis mai qomon ki sadayen mehfuz hain.
  7. Insan ki rooh ki asal kaifiyat ghum hai, khushi ek arzi shay hai.
  8. Zindagi ka raaz yehi hai k jahan raho jis haal mai rho khush raho or mutmain raho.
  9. Faqar ki pehli manzil kasb e halal hai. Noor imaan b kasb e halal hi aida hota hai.
  10. Kaam meri nazar mai aise hi muqadas hai jese ibadat.

Zilhajj k Maheene ki Fazilat

Zilhajj Islami saal ka akhri maheena hai. Ye hurmat wala maheena boht babarkat or fazilat wala maheena hai. Allah Ta’ala ko ye maheena boht pasand hai. Is k pehle das dinon ki boht fazilat hai. Hadis e Pak mai hai k:

“Zilhajj ka sara maheena bari bazurgi or fazilat ka maheena hai. Lekin is maah k pehle das din or is mai ibadat ka bht sawaab hai or farmaya k das din mai se teen din kasrat k sath apne rab ko yad karo uski barai biyan karo.Ye teen din ye hain: Zilhajj ki 8, 9, 10 tareekh .

In dino mai nawafil b ada karen or roza b rakhen. Tilawat e Quran b karen or Tasbeeh o Tehleel b karen. Teesra or chotha kalma kasrat se parhen. Har roz Isha ki namaz k baad do Rakat nafil is tarah ada karen k har rakat mai Surat fatiha k bad 3 bar Surat kosar, 3 bar Surat ikhlas parhen or ye nafil parhne wale ko Allah jannat k alaa muqam mai dakhil kare ga, nama e amaal mai hazaar naikiyan likhi jayen gi or hazaar dinar sadqa dene ka sawab mile ga Allah Ta’ala parhne ki tofeeq ata farmaye.