میلاد کیا ہے؟ میلاد کیوں منایا جاتا ہے؟ میلاد منانا چاہیے یا نہیں؟ یہ ہیں وہ سوالات جو عید میلاد النبیﷺ کے موقع پر سادہ لوح مسلمانوں کے ذہنوں میں پیدا کر دیے جاتے ہیں اور وہ جو اپنے نبیﷺ کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں پریشان ہو جاتے ہیں اور کشمکش کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آیے ان تمام سوالات کا قرآن، حدیث اور سنت کی روشنی میں بغور جایزہ لیتے ہیں اور ذہنون میں پیدا ہونے والے خدشات کا سدباب کرتے ہیں۔
میلاد کے معنی ہیں ولادت، پیدائیش کے تذکرے کرنا۔ اس لحاظ سے عید میلاد النبیﷺ کا مطلب ہے آپﷺ کی پیدائیش کے واقعات بیان کرنا، شیر خوارگی کے حالات کا بیان، آپﷺ کے نسب کا بیان۔ آپﷺ کی ولادت کے واقعات کا بیان جیسے بھی کریں گے وہ میلاد شریف ہوگا۔
میلاد شریف منانا اور اس موقع پر خوشی کا اظہار جس بھی جائز طریقے سے ہو وہ مستحب ہے ، برکتوں اور رحمتوں کے نزول کا سبب ہے۔ قرآن میں ہےحضرت عیسی علیہ السلام نے دعا کی
اے ھمارے رب ہم پر نازل فرما ایک دستر خوان کھانے سے سجا ہوا آسمان سے
کہ اس سے ہمارے پہلوں کے لیے اور ہمارے پچھلوں کے لیے عید ہو۔
اللہ تعالی نے دعا قبول فرمائ آسمان سے مائدہ اترا انہوں نے خوشی منائ، وہ دن اتوار کا دن تھا۔ عیسائ آج بھی اس دن خوشی مناتے ہیں کہ اس دن دستر خوان اترا تھا۔ حضور سرور دو عالمﷺ کی اس دنیا میں تشریف آوری تو اس مائدہ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ قرآن میں ہے
اور یاد کرو اللہ تعالی کی نعمت اپنے اوپر
اللہ تعالی سورتہ والضحی میں فرماتے ہیں
اور اپنے رب کی نعمتوں کا چرچا کرو
یعنی اللہ تعالی کی نعمتوں کو یاد کرنااور ان کا چرچا کرنا اللہ کے حکم کی بجا آوری ہے۔ حضورﷺ کی اس دنیا میں آمد اللہ تعالی کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ میلاد شریف کی محفل سجا کر ہم اللہ تعالی کی اس نعمت کی آمد کی یاد تازہ کرتے ہیں اور اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔
قرآن پاک میں ہے
اے ایمان والو تمہارے پاس عظمت والے رسول تشریف لائے
یہ بھی میلاد شریف ہے کہ آپﷺ کی ولادت کا ذکر ہے۔ پھر قرآن میں فرمایا
وہ تم میں سے، تمہاری بہترین جماعت میں سے ہیں
اس آیت میں حضورﷺ کے نسب کو بیان فرمایا۔ پھر فرمایا “حریص علیکم” گویا اللہ تعالی نے آپﷺ کی نعمت بیان فرمائ۔ کہیں اللہ نے فرمایا کہ اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان کیا کہ ان میں اپنے رسول کو بھیج دیا۔ کہیں اللہ نے فرمایا کہ وھی ذات پاک ہے رب تعالی کی جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا۔ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں حضرت آدم علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام، حضرت اسحاق علیہ السلام، حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت موسی علیہ السلام، حضرت عیسی علیہ السلام کا میلا د منایا ہے۔
سورتہ مریم میں اللہ تعالی نے حضرت مریم کا حاملہ ہونا، ان کی تکلیف کا ذکر، پھر آپ نے اس وقت کیا غذا کھائ، حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت اور ان کا اپنی قوم سے کلام غرض کہ سب ہی بیان فرمایا۔ اسی طرح قرآن نے حضرت موسی علیہ السلام کی پیدائیش، ان کی شیرخوارگی، ان کی پرورش، ان کا چلنا پھرنا، مدین جانا۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت کرنا، ان کا نکاح، ان کو نبوت کا ملنا سب کچھ بیان فرمایا۔ قرآن میں اللہ سبحان و تعالی فرماتے ہیں
کہہ دو اے نبی اللہ کے فضل و رحمت پر خوب خوشیاں منایا کرو
اللہ کے فضل اور رحمت ہونے پر خوشی منانا حکم الہی ہے۔ حضورﷺ اللہ تعالی کی طرف سے رحمت بھی ہیں اور فضل عظیم بھی لہذا آپﷺ کی ولادت پاک پر خوشیاں منانا اس آیت پر عمل کرنا ہے۔
میلاد کی محفلوں میں کیا ہوتا ہے؟ آپﷺ کی ولادت کا بیان ہوتا ہے۔ آپﷺ کی ولادت کے موقع پر جو معجزات دیکھنے میں آئے ان کا ذکر خیر ہوتا ہے۔ آپﷺ کی ولادت کے موقع پر حضرت آمنہ کی کیفیات کا بیان ہوتا ہے۔ آپﷺ کی شیر خوارگی کے واقعات کا تذکرہ ہوتا ہے۔ آپﷺ کے بچپن کے واقعات کا ذکر ہوتا ہے۔ آپﷺ کی ولادت کے موقع پر محفل میلاد منعقد کرکے اللہ کی طرف سے آپﷺ کی صورت میں فضل اور رحمت پر خوشی منائ جاتی ہے۔ یہ سب قرآن کا طریقہ ہے، یہ اللہ تعالی کی سنت ہے اور اس کا حکم ہے۔ ولادت کی رات میں ملائکہ نے حضرت آمنہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر صلوۃ سلام عرض کیا- فرشتوں نے بھی میلاد منایا۔
تمام انبیاء علیہ السلام نے آپﷺ کی آمد کی خبر اپنی اپنی امت کو دی آپﷺ کے بارے میں بتایا۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ایسے رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد تشریف لایئں گے ان کا نام احمد ہے۔ سبحان اللہ- ماں باپ بچوں کے نام ان کی پیدایئش کے بعد رکھتے ہیں مگر آپﷺ کی ولادت باسعادت سے ۶۰۰ سال پہلے حضرت عیسی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ان کا نام احمد ہے، “ہو گا” نہ کہا، یعنی آپﷺ کا نام اللہ تعالی نے رکھاہے، کب رکھا یہ تو اللہ ہی جانے۔ یہ بھی میلاد ہے۔ فرق اتنا ہے کہ تمام انبیاء علیہ السلام نے اپنی اپنی قوم کے اجتماع میں فرمایا کہ آپﷺ تشریف لایئں گے اور ہم اپنے اپنے اجتماع میں کہتے ہیں کہ آپﷺ تشریف لے آئے ہیں یعنی مستقبل اور ماضی کے الفاظ کا فرق ہے بات ایک ہی ذات باصفاﷺ کی ہے، ان کی آمد کی خوشخبری سنائ جا رہی ہے۔ ان کی ولادت باسعادت کا ذکر خیر ہے، آپﷺ کا میلاد منایا جارھا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ میلاد مصطفےﷺ منانا انبیاء علیہ السلام کی سنت ہے-
مشکوۃ شریف کی حدیث مبارکہ ہے حضرت عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں ایک دن آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ شاید حضورﷺکو یہ خبر ملی تھی کہ بعض لوگ آپﷺ کے نسب میں طعن کرتے ہیں۔ پس آپﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور صحابہ سے پوچھا کہ بتاوء کہ میں کون ہوں۔ سب نے عرض کی آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا میں محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب ہوں۔ اللہ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو ہم کو بہتر مخلوق میں سے کیا۔ پھر اس کے دو حصے کیئے۔ عرب اور عجم- ہم کو ان میں سے بہتر (یعنی عرب) میں سے کیا۔ پھر عرب کے چند قبیلے بنائے اور ہم کو ان میں سے بہتر (یعنی قریش) میں سے کیا۔ پھر قریش کے چند خاندان بنائے۔ ہم کو ان میں سے سب سے بہتر خاندان (یعنی بنو ہاشم) میں سے کیا۔ ہم خاتم النبیین ہیں۔ ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہیں، حضرت عیسی علیہ السلام کی بشارت ہیں اور اپنی والدہ ماجدہ کا وہ دیدار ہوں جو انہوں نے ولادت کے وقت دیکھا – کہ ان سے ایک نور چمکا جس سے ملک شام کے تمام محل ان کو نظر آئے۔ اس محفل میں حضورﷺ نے اپنا نسب نامہ بیان فرمایا، اپنی ولادت کا ذکر کیا، یعنی اپنا میلاد منایا۔
صحابہ کرام ایک دوسرے کے پاس جاکر فرمائش کرتے تھے کہ ہم کو حضورﷺ کی نعت سناوء۔ حضرت عطار ابن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے حضورﷺ کی وہ نعت سناوء جو کہ توریت میں ہے۔ انہوں نے پڑھ کر سنائ۔
کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ میرے پسندیدہ بندے ہیں۔ نہ کج خلق ہیں، نہ سخت طبیعت ہیں۔
ان کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوگی اور ان کی ہجرت مدینہ طیبہ میں ہوگی، ان کا ملک شام ہوگا۔
ان کی امت خدا کی بڑی حمد کر ےگی۔ ہر دکھ، تکلیف اور خوشی کے موقع پر بھی خدا کی حمد کرے گی۔
ان تمام واقعات سے یہ بات بڑے وثوق سےکہی جا سکتی ہے کہ میلاد مصطفےﷺ منانا نہ صرف جائز ہے بلکہ اللہ تعالی کے حکم پر عمل کرنا ہے اور اس کی سنت کا اتباع ہے ۔ اللہ تعالی کے اس حکم اور اس کی اس سنت کو انبیاء علیہ صلوۃ والسلام نے اپنایا۔ آپﷺ نے بھی اس سنت پر عمل کیا، آپﷺ کے صحابہ نے بھی اس کی پیروی کی۔ ہمیں چاہیئے کہ ہم بھی اپنے اللہ تعالی کے حکم اور اس کے محبوب بندوں کی سنت پر عمل کریں۔ میلاد کی محفلیں سجایئں، آپﷺ کی ولادت کی خوشیاں منایئں، آپﷺ کی نعت بیان کریں، درود و سلام کے تحفے آپﷺ کی خدمت میں پیش کریں۔ سارا قرآن حضورﷺ کی نعت ہے، اس کا بیان سنیں اور سنایئں۔
حضورﷺ سے دو شنبہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ اس دن ہم پیدا ہوئے اور اس دن ہم پر وحی نازل ہونا شروع ہوئ تھی۔ اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ دو شنبہ پیر کا دن ہے، اس دن کا روزہ سنت ہے کہ حضورﷺ کی ولادت کا دن ہے۔ اس سے تین باتوں کا پتہ چلتا ہے، (۱) یادگار منانا سنت ہے (۲) یادگار منانے کے لیئے دن مقرر کرنا سنت ہے (۳) اور حضورﷺ کی ولادت کی خوشی میں عبادت کرنا بھی سنت ہے۔ عبادت چاہے بدنی ہو جیسا کہ روزہ رکھنا، نوافل پڑھنا یا مالی ہو جیسا کہ صدقہ و خیرات دینا، شرینی تقسیم کرنا۔
میلاد شریف کی محفلیں کرنا حضورﷺ کی تعظیم اور عزت ہے جبکہ اس میں کوئ خلاف شرع عمل نہ ہو۔ امام سیوطی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم پر حضورﷺ کی ولادت پر اظہار تشکر مستحب ہے۔ امام سخاوی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا مسلمان ہر شہر میں ہر جگہ ہمیشہ میلاد شریف مناتے رہتے ہیں۔ اس مجلس پاک کی برکتوں سے ان پر اللہ کا بڑا ہی فضل ہوتا ہے۔ امام جوزی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میلاد کی تاثیر یہ ہے کہ سال بھر اس جگہ اللہ اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل کرتا ہے اور امن رہتا ہے اور اس کی مرادیں پوری ہوتی ہیں۔





